کلامِ سوداردیف الف

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

۱

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کاجوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا

۲

پردے کو تعین کے در دل سے اٹھا دےکھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا

۳

ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخجوں شمع حرم رنگ جھلکتا ہے بتاں کا

۴

اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکنجب چشم کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا

۵

دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کا بازارلیکن نہیں خواہاں کوئی واں جنس گراں کا

۶

ہستی سے عدم تک نفس چند کی ہے راہدنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا

۷

سوداؔ جو کبھو گوش سے ہمت کے سنے تومضمون یہی ہے جرس دل کی فغاں کا

۵ / ۶۱