کلامِ سوداردیف الف

کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا

۱

کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیاہے بے صدا وہ چینی جس میں کہ بال آیا

۲

سینے سے میں دعا کو لایا جو شب لبوں تککہنے لگی اجابت کیدھر خیال آیا

۳

کونین تک ملی تھی جس دل کی مجھ کو قیمتقسمت کہ یک نگہ پر جا اس کو ڈال آیا

۴

بخشش پہ دو جہاں کے آئی تھی ہمت دہرلیکن نہ یاں زباں تک حرف سوال آیا

۵

نازاں نہ ہو تو اس پر گر تجھ کو سنگ میں سےگوہر نکالنے کا کسب و کمال آیا

۶

ارباب فہم آگے وہ صاحب ہنر ہےکینہ کسی کے دل سے جس کو نکال آیا

۷

دیر خراب میں کل اک مست کی زباں پریہ شعر اس جگہ کے کیا حسب حال آیا

۸

اعمال دیکھ تیرے مے شرم سے عرق ہےاے محتسب تجھے بھی کچھ انفعال آیا

۹

ملنے کا ایک دم بھی یاں ضعف دل ہے مانعاکتا کے اٹھ گیا وہ تب میں بحال آیا

۱۰

نخل حیات اپنا گلشن میں باغباں نےبویا تو تھا ہوس کر لیکن نہ پال آیا

۱۱

اکسیر ہے تو کیا ہے وہ مشت خاک سوداؔخاطر پہ جب کسی کی جس سے ملال آیا

۷ / ۶۱