کلامِ سوداردیف الف

جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا

۱

جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوابلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہوا

۲

مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیرمرے لہو کو تو دامن سے دھو ہوا سو ہوا

۳

پہنچ چکا ہے سر زخم دل تلک یاروکوئی سبو کوئی مرہم رکھو ہوا سو ہوا

۴

کہے ہے سن کے مری سرگزشت وہ بے رحمیہ کون ذکر ہے جانے بھی دو ہوا سو ہوا

۵

خدا کے واسطے آ درگزر گنہ سے مرےنہ ہوگا پھر کبھو اے تند خو ہوا سو ہوا

۶

یہ کون حال ہے احوال دل پہ اے آنکھونہ پھوٹ پھوٹ کے اتنا بہو ہوا سو ہوا

۷

نہ کچھ ضرر ہوا شمشیر کا نہ ہاتھوں کامرے ہی سر پہ اے جلاد جو ہوا سو ہوا

۸

دیا اسے دل و دیں اب یہ جان ہے سوداؔپھر آگے دیکھیے جو ہو سو ہو ہوا سو ہوا

۸ / ۶۱