کلامِ سوداردیف الف

دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا

۱

دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیاسخت مہم تھی کہ وہ سر کر گیا

۲

وہم غلط کار نے دل خوش کیاکس پہ نہ جانے وہ نظر کر گیا

۳

جا ہی بھڑا تجھ صف مژگاں سے یاردل تو مرا زور جگر کر گیا

۴

رات ملا تھا مجھے تنہا رقیبیار خدا کا ہی میں ڈر کر گیا

۵

فیض ترے وصف بنا گوش کااپنے سخن کو تو گہر کر گیا

۶

دیکھ لی ساقی کی بھی دریا دلیلب نہ ہمارے کبھو تر کر گیا

۷

کیوں کے کراہوں نہ شب و روز میںدرد مرے پہلو میں گھر کر گیا

۸

نفع کو پہنچا یہ تجھے دے کے دلجان کا اپنی میں ضرر کر گیا

۹

اور غزل اب کوئی سودا تو کہہیہ تو یوں ہی تھی میں نظر کر گیا

۹ / ۶۱