کلامِ سوداردیف الف
دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا
دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گاجوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا
رخصت ہے باغباں کہ تنک دیکھ لیں چمنجاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا
کعبہ ڈہا تو غم نہ کر اے شیخ بت شکندل برہمن کا ہے کہ بنایا نہ جائے گا
آنے سے فوج خط کے نہ ہو دل کو مخلصیبندھوا ہے زلف کا یہ چھٹایا نہ جائے گا
پہنچیں گے اس چمن میں نہ ہم داد کو کبھوجوں گل یہ چاک جیب سلایا نہ جائے گا
تیغ جفائے یار سے دل سر نہ پھیریوپھر منہ وفا کو ہم سے دکھایا نہ جائے گا
آوے گا وہ چمن میں نہ اے ابر جب تلکپانی گلوں کے منہ میں چوایا نہ جائے گا
عمامے کو اتار کے پڑھیو نماز شیخسجدے سے ورنہ سر کو اٹھایا نہ جائے گا
زاہد گلے سے مستوں کے باز آنے کا نہیںتا مے کدے میں لا کے چھکایا نہ جائے گا
ظالم نہ میں کہا تھا کہ اس خوں سے درگزرسوداؔ کا قتل ہے یہ چھپایا نہ جائے گا
دامان و داغ تیغ کو دھویا تو کیا ہواعالم کے دل سے داغ دھلایا نہ جائے گا
۱۰ / ۶۱