کلامِ سوداردیف الف

دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا

۱

دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کاپہنچے کب اس کو ہاتھ ہمارے غبار کا

۲

موج نسیم آج ہے آلودہ گرد سےدل خاک ہو گیا ہے کسی بے قرار کا

۳

خون جگر شراب و ترشح ہے چشم ترساغر مرا گرو نہیں ابر بہار کا

۴

چشم کرم سے عاشق وحشی اسیر ہوالفت ہے دام آہوئے دل کے شکار کا

۵

سونپا تھا کیا جنوں نے گریبان کو مرےلیتا ہے اب حساب جو یہ تار تار کا

۶

سوداؔ شراب عشق نہ کہتے تھے ہم، نہ پیپایا مزا نہ تو نے اب اس کے خمار کا

۱۱ / ۶۱