کلامِ سوداردیف الف

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا

۱

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھاپردے میں تھا آفتاب دیکھا

۲

کیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کےیوسف کی طرح میں خواب دیکھا

۳

کچھ میں ہی نہیں ہوں، ایک عالماس کے لیے یاں خراب دیکھا

۴

دل تو نے عبث لکھا تھا نامہجو ان نے دیا جواب دیکھا

۵

بے جرم و گناہ قتل عاشقمذہب میں ترے صواب دیکھا

۶

کچھ ہووے تو ہو عدم میں راحتہستی میں تو ہم عذاب دیکھا

۷

جس چشم نے مجھ طرف نظر کیاس چشم کو میں پر آب دیکھا

۸

حیران وہ تیرے عشق میں ہےیاں ہم نے جو شیخ و شاب دیکھا

۹

بھولا ہے وہ دل سے لطف اس کاسوداؔ نے یہ جب عتاب دیکھا

۱۲ / ۶۱