کلامِ سوداردیف الف
بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
۱
بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھاہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھا
۲
روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخاجس نور کو تو نے سر کنعان میں دیکھا
۳
برہم کرے جمعیت کونین جو پل میںلٹکا وہ تری زلف پریشان میں دیکھا
۴
واعظ تو سنے بولے ہے جس روز کی باتیںاس روز کو ہم نے شب ہجران میں دیکھا
۵
اے زخم جگر سودۂ الماس سے خو کرکتنا وہ مزا تھا جو نمک دان میں دیکھا
۶
سوداؔ جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہکیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا
۱۳ / ۶۱