کلامِ سوداردیف الف
بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا
بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھناکوئی دم کو پھولتا ہے یہ گل زار دیکھنا
نرگس کی طرح خاک میری اگیں ہیں چشمٹک آن کے یہ حسرت دیدار دیکھنا
کھینچے تو تیغ ہے حرم دل کے صید پراے عشق پر بھلا تو مجھے مار دیکھنا
ہے نقص جان دید ترا پر یہی ہے دھنجی جاؤ یار ہو مجھے یک بار دیکھنا
اے طفل اشک ہے فلک ہفتمیں پہ عرشآگے قدم نہ رکھیو تو زنہار دیکھنا
پوچھے خدا سبب جو مرے اشتیاق کامیری زباں سے ہو یہی اظہار دیکھنا
ہر نقش پا پہ تڑپے ہے یارو ہر ایک دلٹک واسطے خدا کے یہ رفتار دیکھنا
کرتا تو ہے تو آن کے سوداؔ سے اختلاطکوئی لہر آ گئی تو مرے یار دیکھنا
تجھ بن عجب معاش ہے سوداؔ کا ان دنوںتو بھی ٹک اس کو جا کے ستم گار دیکھنا
نے حرف و نے حکایت و نے شعر و نے سخننے سیر باغ و نے گل و گلزار دیکھنا
خاموش اپنے کلبۂ احزاں میں روز و شبتنہا پڑے ہوئے در و دیوار دیکھنا
یا جا کے اس گلی میں جہاں تھا ترا گزرلے صبح تا بہ شام کئی بار دیکھنا
تسکین دل نہ اس میں بھی پائی تو بہر شغلپڑھنا یہ شعر گر کبھو اشعار دیکھنا
کہتے تھے ہم نہ دیکھ سکیں روز ہجر کوپر جو خدا دکھائے سو ناچار دیکھنا
۱۴ / ۶۱