کلامِ سوداردیف الف
باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا
۱
باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کادیوان ہے ہمارا کیسہ جواہری کا
۲
چہرہ ترا سا کب ہے سلطان خاوری کاچیرہ ہزار باندھے سر پر جو وہ زری کا
۳
منہ پر یہ گوشوارہ موتی کا جلوہ گر ہےجیسے قران باہم ہو ماہ و مشتری کا
۴
آئینہ خانے میں وہ جس وقت آن بیٹھےپھر جس طرف کو دیکھو جلوہ ہے واں پری کا
۵
جز شوق دل نہ پہنچوں ہرگز بہ کوئے جاناںاے خضر کب ہوں تیری محتاج رہبری کا
۶
جو دیکھتا ہے تجھ کو ہنستا ہے قہقہے ماراے شیخ تیرا چہرہ مبدا ہے مسخری کا
۷
طالب ہیں سیم و زر کے خوبان ہند سوداؔاحوال کون سمجھے عاشق کی بے زری کا
۱۵ / ۶۱