کلامِ سوداردیف ے

تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے

۱

تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہےلیکن شفا کو گردش تقدیر شرط ہے

۲

سودائی دل کو زلف گرہ گیر شرط ہےدیوانے کے علاج میں زنجیر شرط ہے

۳

نالے تو میں بہت کئے اس بت کے سامنےپتھر کے نرم کرنے کو تاثیر شرط ہے

۴

ہو خاک راہ عشق میں تا قدر ہو تریمس کے طلا بنانے کو اکسیر شرط ہے

۵

کافی ہے اک اشارۂ ابرو ترا ہمیںکچھ عاشقوں کے قتل کو شمشیر شرط ہے

۶

دل کی شکست و ریخت کی میرے تو لے خبرہر گھر کی دیر پائی کو تعمیر شرط ہے

۷

کرتا ہے کس گنہ پہ عقوبت ہمیں تو یارتعزیر کے تو واسطے تقصیر شرط ہے

۸

سوداؔ میں اس چمن میں ہوں جوں غنچہ دل گرفتماتم سرا میں صورت دلگیر شرط ہے

۴۵ / ۶۱