کلامِ سوداردیف ے
نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے
۱
نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہےہماری خاک سے دیکھو تو کچھ رہا بھی ہے
۲
ترا غرور مرا عجز تا کجا ظالمہر ایک بات کی آخر کچھ انتہا بھی ہے
۳
جلے ہے شمع سے پروانہ اور میں تجھ سےکہیں ہے مہر بھی جگ میں کہیں وفا بھی ہے
۴
خیال اپنے میں گو ہوں ترانہ سنجاں مستکراہنے کے دلوں کو کبھی سنا بھی ہے
۵
زبان شکوہ سوا اب زمانہ میں ہیہاتکوئی کسو سے بہم دیگر آشنا بھی ہے
۶
ستم روا ہے اسیروں پہ اس قدر صیادچمن چمن کہیں بلبل کی اب نوا بھی ہے
۷
سمجھ کے رکھیو قدم خار دشت پر مجنوںکہ اس نواح میں سوداؔ برہنہ پا بھی ہے
۴۶ / ۶۱