کلامِ سوداردیف ی
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
۱
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھیاے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
۲
کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہکافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی
۳
اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارےتجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی
۴
اے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ تیرےپایا نہ تنک دیکھنے تیں روئے اثر بھی
۵
کس ہستئ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یارکچھ اپنے شب و روز کی ہے تج کو خبر بھی
۶
تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوشرہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی
۷
سوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی راتآئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی
۴۴ / ۶۱