کلامِ سوداردیف ے
جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے
۱
جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہےکیا گل ہے وہ کہ جس کے یہ گل زار ساتھ ہے
۲
تو مست شب اندھیری اور اغیار ساتھ ہےجو دل میں آوے کہہ یہ گنہ گار ساتھ ہے
۳
خاموش عندلیب چمن تجھ سے کیا ہے بحثاپنا سخن تو مرغ گرفتار ساتھ ہے
۴
پیغام اس نگہ کا کہ جس میں ہے بوئے مہرکیا جانے کس کے آخری دیدار ساتھ ہے
۵
عقدہ نہ یہ کھلا کہ مرے دل سا پہلوانتجھ زلف کے بندھا ہوا اک تار ساتھ ہے
۶
کرتے تو ہو مرے مرض دل کا تم علاجیارو جو دل یہی ہے تو آزار ساتھ ہے
۷
سوداؔ کے ہاتھ کیوں کے لگے وہ متاع حسنلے نکلیں جس کو گھر سے تو بازار ساتھ ہے
۴۸ / ۶۱