کلامِ سوداردیف ے

جس دم وہ صنم سوار ہووے

۱

جس دم وہ صنم سوار ہووےتا صید حرم شکار ہووے

۲

جو اٹھ نہ سکے تری گلی سےرہنے دے کہ تا غبار ہووے

۳

محکم تو رزاق بن سکے ہےگو عمر کہ پائیدار ہووے

۴

وہ قصر تو چاہتا نہیں میںجس میں گل و گلعذار ہووے

۵

وسعت مرے سینے بیچ اے دہرٹک دل کو شگفتہ وار ہووے

۶

سوزن کی نہ جیب کیجو منتیوں پھٹیو کہ تار تار ہووے

۷

شبنم سے بھرے ہے ساغر گلگردوں تو خراب و خوار ہووے

۸

پانی نہیں دیتے اس کو ظالمجو زخمیٔ بے شمار ہووے

۹

ناصح تو قسم لے ہم سے، دل پراپنا کبھو اختیار ہووے

۱۰

کھینچے ہے کوئی بھی تیغ پیارےجمدھر کہ جب آب دار ہووے

۱۱

کن زخموں میں زخم ہے کہ جب تکچھاتی کے نہ وار پار ہووے

۱۲

کھینچی ہے بھواں نے تیغ مکھ پرسوداؔ سے کہو نثار ہووے

۱۳

ویسے ہی کاہے یہ کام گل روعاشق ہی نہ گو ہزار ہووے

۴۹ / ۶۱