کلامِ سوداردیف ے

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

۱

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھےتب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے

۲

دو دن میں ہم تو ریجھے اے وائے حال ان کاگزرے ہیں جن کے دل کو یاں ماہ و سال باندھے

۳

تار نگہ میں اس کے کیونکر پھنسے نہ یہ دلآنکھوں نے جس کے لاکھوں وحشی غزال باندھے

۴

جو کچھ ہے رنگ اس کا سو ہے نظر میں اپنیگو جامہ زرد پہنے یا چیرہ لال باندھے

۵

تیرے ہی سامنے کچھ بہکے ہے میرا نالہورنہ نشانے ہم نے مارے ہیں بال باندھے

۶

بوسہ کی تو ہے خواہش پر کہیے کیونکہ اس سےجس کا مزاج لب پر حرف سوال باندھے

۷

ماروگے کس کو جی سے کس پر کمر کسی ہےپھرتے ہو کیوں پیارے تلوار ڈھال باندھے

۸

دو چار شعر آگے اس کے پڑھے تو بولامضموں یہ تو نے اپنے کیا حسب حال باندھے

۹

سوداؔ جو ان نے باندھا زلفوں میں دل سزا ہےشعروں میں اس کے تو نے کیوں خط و خال باندھے

۵۰ / ۶۱