کلامِ سوداردیف ے

جب نظر اس کی آن پڑتی ہے

۱

جب نظر اس کی آن پڑتی ہےزندگی تب دھیان پڑتی ہے

۲

جھیل لیتے ہیں عاشق اے فرہادجس کے سر جیسی آن پڑتی ہے

۳

ہے جفا سے غرض اسے اتنیکہ وفا امتحان پڑتی ہے

۴

نظر ان مہ وشاں کی ہے ظالمکیا غضب آن بان پڑتی ہے

۵

قد زاہد نظر میں چلے بعداتری سی کچھ کمان پڑتی ہے

۶

بات اس دل کے درد کی یاروگفتگو میں ندان پڑتی ہے

۷

ایک کے منہ سے جس گھڑی نکلیپھر تو سو کی زبان پڑتی ہے

۸

لیکن اتنا کوئی کہے مجھ سےکبھو اس کے بھی کان پڑتی ہے

۹

بے ثباتی زمانے کی ناچارکرنی مجھ کو بیان پڑتی ہے

۱۰

گرم جوشیٔ دوستاں بہ نظرآتش کاروان پڑتی ہے

۱۱

دل سے پوچھا یہ میں کہ عشق کی راہکس طرف مہربان پڑتی ہے

۱۲

کہا ان نے کہ نے بہ ہندستاںنے سوئے اصفہان پڑتی ہے

۱۳

یہ دوراہا جو کفر و دیں کا ہےدونوں کے درمیان پڑتی ہے

۱۴

منزلت شعر کی ترے سوداؔیوں بہ وہم و گمان پڑتی ہے

۱۵

نہیں عیسیٰؔ تو پر سخن سے ترےتن بے جاں میں جان پڑتی ہے

۵۱ / ۶۱