کلامِ سوداردیف ے
دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے
۱
دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہےہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جی ہے تو جہاں ہے
۲
ہر ایک کے دکھ درد کا اب ذکر و بیاں ہےمجھ کو بھی ہو رخصت مرے بھی منہ میں زباں ہے
۳
اس عشق کے ہے تو ہی سزا وار کہ ہر ایکدل دے کے ترے نام کو جویائے نشاں ہے
۴
جویندۂ ہر چیز ہے یابندہ جہاں میںجز عمر گزشتہ کہ وہ ڈھونڈو تو کہاں ہے
۵
پیری جو تو جاوے تو جوانی سے یہ کہناخوش رہیو مری جان تو جیدھر ہے جہاں ہے
۶
پہنچا نہ کوئی مرغ کبھو اپنے چمن تکجز طائر حسرت کہ وہ یاں بال فشاں ہے
۷
تجھ سے تو کسو طرح مرا کچھ نہیں چلتاجز خون کہ آنکھوں سے شب و روز رواں ہے
۸
ساقی تو نظر کیجیو ٹک صبح چمن کواس پیر کے جلوے کا بھلا کوئی جواں ہے
۹
سوداؔ کا ترے دشت میں طفلاں سے ہے یہ حالجیدھر وہ کھڑا ہووے تو جوں سنگ نشاں ہے
۵۳ / ۶۱