کلامِ سوداردیف ے

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے

۱

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقےکہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقے

۲

جتا دیں جس جگہ ہم قدر اپنی ناتوانی کیاگر کہسار واں ہووے تو جاوے کاہ کے صدقے

۳

نہ دے تکلیف جلنے کی کسو کے دل کو میرے پراثر سے دور رہتی ہیں میں اپنی آہ کے صدقے

۴

عجائب شغل میں تھے رات تم اے شیخ رحمت ہےمیں اس ریش بلند اور دامن کوتاہ کے صدقے

۵

نہیں بے وجہ کوچے سے ترے اٹھنا بگولے کاہماری خاک بھی جاتی ہے تیری راہ کے صدقے

۶

کبھو وہ شب بھی اے پروانہ حق باہم دکھاوے گاتو بل بل شمع پر جاوے میں ہوں اس ماہ کے صدقے

۷

دکھاتی ہے تجھے کس کس طرح سوداؔ کی نظروں میںجو ہو انصاف تو جاوے تو اس کی چاہ کے صدقے

۵۴ / ۶۱