کلامِ سوداردیف ی
بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی
۱
بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کیشاید کہ ہوئی کارگر اب آہ کسو کی
۲
اس چشم کا غمزہ جو کرے قتل دو عالمگوشے کو نگہ کے نہیں پرواہ کسو کی
۳
زلفوں کی سیاہی میں کچھ اک دام تھے اپنےقسمت کہ ہوئی رات وہ تنخواہ کسو کی
۴
کیا مصرف بے جا سے فلک کو ہے سروکاروہ شے کسو کو دے جو ہو دل خواہ کسو کی
۵
دنیا سے گزرنا ہی عجب کچھ ہے کہ جس میںکوئی نہ کبھو روک سکے راہ کسو کی
۶
چھینے سے غم عشق شکیبائی و آراماے دل یہ پڑی لٹتی ہے بنگاہ کسو کی
۴۲ / ۶۱