کلامِ سوداردیف ی

اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانی

۱

اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانیگو تج کو لقب ہم نے دیا عرش مکانی

۲

یک خلق کی نظروں میں سبک ہو گیا لیکنکرتا ہوں میں اب تک تری خاطر پہ گرانی

۳

ٹک دیدۂ تحقیق سے تو دیکھ زلیخاہر چاہ میں آتا ہے نظر یوسف ثانی

۴

معمور ہے جس روز سے ویرانۂ دنیاہر جنس کے انساں کی یہ ماٹی گئی چھانی

۵

اک وامق نو کا ہے سمجھ چاک گریباںکرتی ہے جو رخنہ کوئی دیوار پرانی

۶

بلبل ہی سسکتی نہ تھی کچھ باغ میں تجھ بنشبنم گلوں کے منہ میں چواتی رہی پانی

۷

ہے گوش زدہ خلق مرا قصۂ جانکاہجب سے کہ نہ سمجھے تھا تو چڑیا کی کہانی

۸

جوں شمع مجھے شرم ہے زنار کی اے شیخمالا نہ جپوں رات کو بے اشک فشانی

۹

جس سمت نظر موج سراب آوے تو یہ جانہووے گی کسی زلف چلیپا کی نشانی

۱۰

کیا کیا ملے لیلیٰ منشاں خاک میں سوداؔگو اپنے بھی محبوب کی دیکھی نہ جوانی

۴۳ / ۶۱