کلامِ سوداردیف ہ

بارہا دل کو میں سمجھا کے کہا کیا کیا کچھ

۱

بارہا دل کو میں سمجھا کے کہا کیا کیا کچھنہ سنا اور کھویا مجھ سے مرا کیا کیا کچھ

۲

عزت و آبرو و حرمت و دین و ایماںروؤں کس کس کو میں یارو کہ گیا کیا کیا کچھ

۳

صبر و آرام کہوں یا کہ میں اب ہوش و حواسہو گیا اس کی جدائی میں جدا کیا کیا کچھ

۴

عشق کس ذات کا عقرب ہے کہ لگتے ہی نیشدل کے ساتھ آنکھوں سے پانی ہو بہا کیا کیا کچھ

۵

سادہ روئی نے تو کھویا دل و دیں سے دیکھیںخط کے آنے میں ہے قسمت کا لکھا کیا کیا کچھ

۶

دخل کیا راہ محبت میں نکو نامی کوآیا اس کوچے میں جو ان نے سنا کیا کیا کچھ

۷

والہ و شیفتہ و زار و حزین و مجنوںاپنے عاشق کو کل اس نے نہ کہا کیا کیا کچھ

۸

گریۂ شیشہ کبھی تھا تو کبھی خندۂ جامساقی اس دور میں تیرے نہ ہوا کیا کیا کچھ

۹

غرہ مت ہو جو زمانے سے تری بن آئیتھا وہ کیا کیا کہ نہ بگڑا نہ بنا کیا کیا کچھ

۱۰

شادی آنے کی نہ کر یار نہ جانے کا غمآیا کیا کیا نہ کچھ اس جا نہ گیا کیا کیا کچھ

۱۱

سینہ قانون و غنا نالہ و دل ہے مضرابنکلے ہے ساز محبت سے صدا کیا کیا کچھ

۱۲

دوستو حق میں ترقی و تنزل اپنےکیا کہیں ہم کو زمانے سے ہوا کیا کیا کچھ

۱۳

ضعف و نا طاقتی و سستی و اعضا شکنیایک گھنٹے میں جوانی کے بڑھا کیا کیا کچھ

۱۴

سیر کی قدرت خالق کی بتاں میں سوداؔمشت بھر خاک میں جلوہ ہے بھلا کیا کیا کچھ

۴۱ / ۶۱