کلامِ سوداردیف ف
دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف
۱
دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرفجوں صید وقت ذبح کے صیاد کی طرف
۲
نے دانہ ہم قیاس کیا نے لحاظ دامدھنس گئے قفس میں دیکھ کے صیاد کی طرف
۳
ثابت نہ ہووے خون مرا روز باز پرسبولیں گے اہل حشر سو جلاد کی طرف
۴
پتھر کی لیکھ تھا سخن اس کا ہزار حیفبولی زبان تیشہ نہ فرہاد کی طرف
۵
طرہ کے تیرے واسطے صد چوب شانہ دارقمری گئی ہے کاٹنے شمشاد کی طرف
۶
سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی کہہہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف
۲۹ / ۶۱