کلامِ سوداردیف م
نے غرض کفر سے رکھتے ہیں نہ اسلام سے کام
۱
نے غرض کفر سے رکھتے ہیں نہ اسلام سے کاممدعا ہم کو تو ساقی سے ہے اور جام سے کام
۲
دل نالاں کو مرے کس کے ہے آرام سے کامکوئی بے چین رہو اپنے اسے کام سے کام
۳
اس چمن میں نہ کسی چشم سے پونچھے کوئی اشکصبح تک ہم کو بھی شبنم یہی ہے شام سے کام
۴
کیوں نہ افعی چلے ہر ایک جگہ مکڑا کرنہ پڑا اس کو تری زلف سیہ فام سے کام
۵
گر اکیلا کہیں مل جائے ہمیں تو دل کالیجے من مانتا اس شوخ گل اندام سے کام
۶
ہوں اسیر اس کا جسے بعد گرفتاریٔ صیدنہ گرفتار سے مطلب رہے نے دام سے کام
۷
ہے مبرا یہ زباں کہنے سے اب رام و رحیمجن نے پایا ہے نشاں اس کو نہیں نام سے کام
۸
چشم خورشید کو غرفے سے ترے دن سروکاررات ہے دیدۂ شبنم کو لب بام سے کام
۹
جو میں آغاز ترے کام کا دیکھا سوداؔوائے وہ دن کہ تجھے اس کے ہو انجام سے کام
۳۰ / ۶۱