کلامِ سوداردیف ص

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص

۱

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرصآسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرص

۲

ممکن نہیں ہے یہ کہ بھرے کاسۂ طمعدن میں کروڑ گھر جو پھرا دے گدائے حرص

۳

انساں نہ ہوں ذلیل زمانے کے ہاتھ سےذلت کسی کو کوئی نہ دیوے سوائے حرص

۴

کر منہ کو ٹک بسوے قناعت یہ حرف مانرہتی ہے لاکھ طرح کی آفت قفائے حرص

۵

ناداں تلاش طرۂ زر سے تو باز آجوں شمع یہ نہ ہو کہ ترا سر کٹائے حرص

۶

اپنے سوا کسی کو نہ پایا حریف حیفکی قطع روزگار نے ہم پر قبائے حرص

۷

سوداؔ بسر ہو خوبی سے اوقات ہر طرحپر درمیاں نہ ہووے بشرطیکہ پائے حرص

۲۸ / ۶۱