کلامِ سوداردیف ح

تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح

۱

تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرحجوں توں کے دن تو گزرے ہے پر رات بے طرح

۲

ہوتی ہے ایک طرح سے ہر کام کی جزااعمال عشق کی ہے مکافات بے طرح

۳

بلبل کر اس چمن میں سمجھ کر ٹک آشیاںصیاد لگ رہا ہے تری گھات بے طرح

۴

پوچھا پیام بر سے جو میں یار کا جوابکہنے لگا خموش کہ ہے بات بے طرح

۵

ملنے نہ دے گا ہم سے تجھے ایک دم رقیبپیچھے لگا پھرے ہے وہ بد ذات بے طرح

۶

کوئی ہی مور ہے تو رہے اس میں شیخ جیداڑھی پڑی ہے شانے کے اب ہاتھ بے طرح

۷

سوداؔ نہ مل کر اپنی تو اب زندگی پہ رحمہے اس جواں کی طرز ملاقات بے طرح

۲۲ / ۶۱