کلامِ سوداردیف ث
کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث
۱
کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاثیک بار تیرے دل میں نہیں کار الغیاث
۲
تیری نگہ کو دیکھ کے گردش میں آسمانکرتا پھرے ہے شعبدہ دوار الغیاث
۳
مغرور حسن کا ہے تجھے یہ کہاں خبریعنی کہ کون ہے پس دیوار الغیاث
۴
سوداؔ میں کہتا ہوں کہ یہ پرہیز عشق سےرسوا ہے کیوں تو کوچہ و بازار الغیاث
۲۱ / ۶۱