کلامِ سوداردیف و
کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو
۱
کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کودے آگ ابھی شعلۂ آواز قفس کو
۲
بہہ جاوے لہو ہو کے دل قافلہ سالارتعلیم دے نالہ جو مرا بانگ جرس کو
۳
پہنچے ہے نم داغ جگر تا سر مژگاںشاداب میں رکھتا ہوں سدا آگ سے خس کو
۴
پھرتا ہے ادھر زلف میں شانہ تو ادھر دلیہ دزد نہ لایا کبھو خاطر میں عسس کو
۵
اے عشق نہ فرہاد بچا تجھ سے نہ پرویزبا خاک برابر تو کیا ناکس و کس کو
۶
لے سکتے نہیں سانس تری کو کے مقیدتا خون جگر بیچ نہ غوطہ دیں نفس کو
۷
ترغیب نہ کر سیر چمن کی ہمیں سوداؔہر چند ہوا خوب ہے واں لیک ہوس کو
۴۰ / ۶۱