کلامِ سوداردیف م

لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم

۱

لے دیدۂ تر جدھر گئے ہمڈبرے جو تھے خشک بھر گئے ہم

۲

تجھ عشق میں روز خوش نہ دیکھادکھ بھرتے ہی بھرتے مر گئے ہم

۳

تیرا جو ستم ہے اس کی تو جاناپنی تھی سو خوب کر گئے ہم

۴

یہ قطعہ پڑھے تھا سوز دل سےسودا کے جو رات گھر گئے ہم

۵

جوں شمع لبوں پر آ رہا جیتن تھا سو گداز کر گئے ہم

۶

اتنی بھی پتنگ پیش قدمی!گر شام نہیں سحر گئے ہم

۷

ہوگی نہ کسی کو یہ خبر بھیاس مجلس سے کدھر گئے ہم

۳۱ / ۶۱