کلامِ سوداردیف ن

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

۱

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیںاب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

۲

آیا تھا کیوں عدم میں کیا کر چلا جہاں میںیہ مرگ و زیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں

۳

کیونکر نہ ہو مشبک شیشہ سا دل ہمارااس شوخ کی نگاہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں

۴

برسات کا تو موسم کب کا نکل گیا پرمژگاں کی یہ گھٹائیں اب تک برستیاں ہیں

۵

لیتے ہیں چھین کر دل عاشق کا پل میں دیکھوخوباں کی عاشقوں پر کیا پیش دستیاں ہیں

۶

اس واسطے کہ ہیں یہ وحشی نکل نہ جاویںآنکھوں کو میری مژگاں ڈوروں سے کستیاں ہیں

۷

قیمت میں ان کے گو ہم دو جگ کو دے چکے اباس یار کی نگاہیں تس پر بھی سستیاں ہیں

۸

ان نے کہا یہ مجھ سے اب چھوڑ دخت رز کوپیری میں اے دوانے یہ کون مستیاں ہیں

۹

جب میں کہا یہ اس سے سوداؔ سے اپنے مل کےاس سال تو ہے ساقی اور مے پرستیاں ہیں

۳۲ / ۶۱