کلامِ سوداردیف ن

مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں

۱

مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میںقاضی کے گرفتار نت اعلام کا ہوں میں

۲

بندہ کہو خادم کو چاکر کہو مجھ کوجو کچھ کہو سو ساقیٔ گلفام کا ہوں میں

۳

خدمت میں مجھے عشق کی ہے دل سے ارادتنے معتقد کفر نہ اسلام کا ہوں میں

۴

یک روز حلال اس کو بھی میں کر کے نہ کھایانوکر جو خرابات میں دو جام کا ہوں میں

۵

نے فکر ہے دنیا کی نہ دیں کا متلاشیاس ہستئ موہوم میں کس کام کا ہوں میں

۶

یک رنگ ہوں آتی نہیں خوش مجھ کو دو رنگیمنکر سخن و شعر میں ایہام کا ہوں میں

۷

مطلوب دعا حق میں نہیں اپنے کسو کیطالب لب محبوب سے دشنام کا ہوں میں

۸

بندہ ہے خدا کا تو یقیں کر کہ بتاں کابندہ یہ جہاں بے زر و بے دام کا ہوں میں

۹

ہے شیشۂ مے عینک پیری مجھے سوداؔنظارہ کن اب شیب کے ایام کا ہوں میں

۳۳ / ۶۱