کلامِ سوداردیف ش

دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش

۱

دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموشیہ سبحہ فراموش وہ زنار فراموش

۲

دیکھا جو حرم کو تو نہیں دیر کی وسعتاس گھر کی فضا کر گیا معمار فراموش

۳

بھولے نہ مرے دل سے مرا مصرع جانکاہنالہ نہ کرے مرغ گرفتار فراموش

۴

دل سے نہ گئی آہ ہوس سیر چمن کیاور ہم نے کیا رخنۂ دیوار فراموش

۵

یا نالہ ہی کر منع تو یا گریہ کو ناصحدو چیز نہ عاشق سے ہو یک بار فراموش

۶

بھولا پھروں ہوں آپ کو اک عمر ہے لیکنتجھ کو نہ کیا دل سے میں زنہار فراموش

۷

دل درد سے کس طرح مرا خالی ہو سوداؔوہ ناشنو حرف میں گفتار فراموش

۲۵ / ۶۱