کلامِ سوداردیف ز

کس کے ہیں زیر زمیں دیدۂ نم ناک ہنوز

۱

کس کے ہیں زیر زمیں دیدۂ نم ناک ہنوزجا بجا سوت ہیں پانی کے تا خاک ہنوز

۲

گل زمیں سے جو نکلتا ہے برنگ شعلہکون جاں سوختہ جلتا ہے تہ خاک ہنوز

۳

ایک دن گھیر میں دامن کا ترے دیکھا تھاگرد پھرتے ہیں گریباں کے مرے چاک ہنوز

۴

جستجو کر کے تجھ آفت کو بہم پہنچایاباز آتے نہیں گردش سے یہ افلاک ہنوز

۵

باغ میں جب سے گیا تھا تو خمار آلودہگل ہیں خمیازے میں انگڑائی میں ہیں تاک ہنوز

۶

زخم دل پر ہے مرے تیغ جنوں کا ناصحتو گریبان کا ناداں سیے ہے چاک ہنوز

۷

کیوں کے سوداؔ میں کروں وصف بنا گوش اس کاکی نہیں آب گہر سے یہ زباں پاک ہنوز

۲۴ / ۶۱