کلامِ سوداردیف ش

یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش

۱

یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردشدریا میں ہو جس طرح سے گرداب کی گردش

۲

مرتا ہوں ترے واسطے روتا ہوں زبس یارہے سیل مری چشم میں گرداب کی گردش

۳

پھر جاتی ہیں اس طرح سے اک پل میں وہ انکھیاںجوں بزم میں ہو جام مئے ناب کی گردش

۴

ازبسکہ ہے آنکھوں میں خمار اس گھڑی ساقیمے مانگے ہے تجھ سے جو ہر احباب کی گردش

۵

گو خاک ہوا تو بھی پھرا بن کے بگولاہو کر نہ گئی عاشق بیتاب کی گردش

۶

جنس خرد و صبر بن اس دل کو ہو کیا چینمفلس کو بری ہوتی ہے اسباب کی گردش

۷

دل زلف و رخ یار میں سوداؔ نہ پھرے کیوںخوش آئے ہے اس کو شب مہتاب کی گردش

۲۶ / ۶۱