کلامِ سوداردیف ص

ایک ہم سے تجھے نہیں اخلاص

۱

ایک ہم سے تجھے نہیں اخلاصگھر بہ گھر تجھ کو ہر کہیں اخلاص

۲

رو سیاہی سوا نہیں حاصلنام سے مت کر اے نگیں اخلاص

۳

دیکھ تجھ زلف و رو کی الفت کوکرتے ہیں آج کفر و دیں اخلاص

۴

زور ہی ہم سے تیں رکھا پیارےواہ وا رحمت آفریں اخلاص

۵

مثل نقش قدم یہ رکھتی ہےتیرے در سے مری جبیں اخلاص

۶

گر تمنا گہر کی ہے تو کرچشم میری سے آستیں اخلاص

۷

آدم اس دام میں پھنسا سوداؔرکھے دانے سے خوشہ چیں اخلاص

۲۷ / ۶۱