آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص
انساں نہ ہوں ذلیل زمانے کے ہاتھ سےذلت کسی کو کوئی نہ دیوے سوائے حرص
About this couplet
This is couplet 3 of 7 in “آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص” in the section Ghazals — Radeef Suad, from Mirza Muhammad Rafi Sauda's Urdu book Kalam-e-Sauda (کلامِ سودا).
Read it in the poem۳ / ۷