آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص
کر منہ کو ٹک بسوے قناعت یہ حرف مانرہتی ہے لاکھ طرح کی آفت قفائے حرص
About this couplet
This is couplet 4 of 7 in “آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص” in the section Ghazals — Radeef Suad, from Mirza Muhammad Rafi Sauda's Urdu book Kalam-e-Sauda (کلامِ سودا).
Read it in the poem۴ / ۷