کلامِ سوداردیف و

بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو

۱

بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہوہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہو

۲

روا ہے کہہ تو بھلا اے سپہر نا انصافریائے زہد چھپے راز عشق رسوا ہو

۳

بھرا ہے اس قدر اے ابر دل ہمارا بھیکہ ایک لہر میں روئے زمین دریا ہو

۴

جو مہرباں ہیں وہ سوداؔ کو مغتنم جانیںسپاہی زادوں سے ملتا ہے دیکھیے کیا ہو

۳۹ / ۶۱