کلامِ شادردیف الف

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا

۱

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیازندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

۲

مژدہ اے روح تجھے عشق سا دم ساز آیانکبت فقر گئی شاہ سرافراز آیا

۳

پاس اپنے جو نیا کوئی فسوں ساز آیاہو رہے اس کے ہمیں یاد ترا ناز آیا

۴

پیتے پیتے تری اک عمر کٹی اس پر بھیپینے والے تجھے پینے کا نہ انداز آیا

۵

دل ہو یا روح و جگر کان کھڑے سب کے ہوئےعشق آیا کہ کوئی مفسدہ پرداز آیا

۶

لے رہا ہے در مے خانہ پہ سن گن واعظرندو ہشیار کہ اک مفسدہ پرداز آیا

۷

دل مجبور پہ اس طرح سے پہنچی وہ نگاہجیسے عصفور پہ پر تول کے شہباز آیا

۸

کیوں ہے خاموش دلا کس سے یہ سرگوشی ہےموت آئی کہ ترے واسطے ہم راز آیا

۹

دیکھ لو اشک تواتر کو نہ پوچھو مرا حالچپ رہو چپ رہو اس بزم میں غماز آیا

۱۰

اس خرابے میں تو ہم دونوں ہیں یکساں ساقیہم کو پینے تجھے دینے کا نہ انداز آیا

۱۱

نالہ آتا نہیں کن رس ہے فقط اے بلبلمرد سیاح ہوں سن کر تری آواز آیا

۱۲

دل جو گھبرائے قفس میں تو ذرا پر کھولوںزور اتنا بھی نہ اے حسرت پرواز آیا

۱۳

دیکھیے نالۂ دل جا کے لگائے کس سےجس کا کھٹکا تھا وہی مفسدہ پرداز آیا

۱۴

مدعی بستہ زباں کیوں نہ ہو سن کر مرے شعرکیا چلے سحر کی جب صاحب اعجاز آیا

۱۵

رند پھیلائے ہیں چلو کو تکلف کیساساقیا ڈھال بھی دے جام خدا ساز آیا

۱۶

نہ گیا پر نہ گیا شمع کا رونا کسی حالگو کہ پروانۂ مرحوم سا دم ساز آیا

۱۷

ایک چپکی میں گلو تم نے نکالے سب کامغمزہ آیا نہ کرشمہ نہ تمہیں ناز آیا

۱۸

دھیان رہ رہ کے ادھر کا مجھے دلواتا ہےدم نہ آیا مرے تن میں کوئی دم ساز آیا

۱۹

کس طرح موت کو سمجھوں نہ حیات ابدیآپ آئے کہ کوئی صاحب اعجاز آیا

۲۰

بے انیسؔ اب چمن نظم ہے ویراں اے شادؔہائے ایسا نہ کوئی زمزمہ پرداز آیا

۱ / ۷۹