Contents فہرست
ردیف الف
Ghazals — Radeef Alif
- اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا۱
- اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا۲
- اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا۳
- جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا۴
- نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا۵
- تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا۶
- بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا۷
- تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کا۸
- جب کسی نے حال پوچھا رو دیا۹
- غم فراق مے و جام کا خیال آیا۱۰
- دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا۱۱
- فقط شور دل پر آرزو تھا۱۲
- لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا۱۳
- تھا اجل کا میں اجل کا ہو گیا۱۴
- شب کو مری چشم حسرت کا سب درد دل ان سے کہہ جانا۱۵
- سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیا۱۶
- میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتا۱۷
- جیے جائیں گے ہم بھی لب پہ دم جب تک نہیں آتا۱۸
- بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیا۱۹
- مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا۲۰
- لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا۲۱
- غفلت میں ہوئی اوقات بسر اے عمر گریزاں کچھ نہ کیا۲۲
- کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا۲۳
- نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا۲۴
- ہماری آنکھوں میں اشکوں کا آ کے رہ جانا۲۵
- کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیرا۲۶
- یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا۲۷
- ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کا۲۸
- ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والا۲۹
- کس بری ساعت سے خط لے کر گیا۳۰
- کس پہ قابو جو تجھی پہ نہیں قابو اپنا۳۱
- چست کمر کا کیا سبب تنگ قبا کی وجہ کیا۳۲
- نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا۳۳
- کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا۳۴
- کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا۳۵
- کسی کو کیا خبر اے صبح وقت شام کیا ہوگا۳۶
- وہ عالمگیر جلوہ اور حسن مشترک تیرا۳۷
ردیف ت
Ghazals — Radeef Te
ردیف ض
Ghazals — Radeef Zuad
ردیف ف
Ghazals — Radeef Fe
ردیف ک
Ghazals — Radeef Kaaf
ردیف م
Ghazals — Radeef Meem
ردیف ن
Ghazals — Radeef Noon
ردیف ی
Ghazals — Radeef Choti Ye
ردیف ے
Ghazals — Radeef Bari Ye
رباعیات
Rubaiyat
- ساقی کے کرم سے فیض یہ جاری ہے۵۵
- جس دل میں غبار ہو وہ دل صاف کہاں۵۶
- دل مورد ایذا و بلا ہوتا ہے۵۷
- سو طرح کا میرے لیے سامان کیا۵۸
- تعریف بتاؤں شعر کی کیا کیا ہے۵۹
- روشن ہے کہ شاد سخن آرا میں ہوں۶۰
- تنہا ہے چراغ دور پروانے ہیں۶۱
- حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرا۶۲
- مضموں میرے دل میں بے طلب آتے ہیں۶۳
- بدلے نہ صداقت کا نشاں ایک رہے۶۴
- بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوں۶۵
- جس وقت کا ڈر تھا وہ شباب آ پہنچا۶۶
- اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیا۶۷
- جو چاہئے دیکھنا نہ دیکھا میں نے۶۸
- شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے۶۹
- ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گے۷۰
- اخلاق سے جہل علم و فن سے غافل۷۱
- ہر طرح کی دل میں چاہ کر کے چھوڑے۷۲
- کیا مفت زاہدوں نے الزام لیا۷۳
- کیوں بات چھپاؤں رند مے نوش ہوں میں۷۴
- ہر حال میں آبروئے فن لازم ہے۷۵
- ہادی ہوں میں کام ہے ہدایت میرا۷۶
- کیوں کر نہ رہے غم نہانی تیرا۷۷
- چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیں۷۸
مثنویات، مراثی و دیگر
Masnavis, marsiyas and other forms