کلامِ شادردیف الف

اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا

۱

اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گاتو میں مرنے سے در گزرا مرے کس کام آئے گا

۲

اسے بھی ٹھان رکھ ساقی یقیں ہوگا نہ رندوں کواگر زاہد پہن کر جامۂ احرام آئے گا

۳

شب فرقت میں درد دل سے میں اس واسطے خوش ہوںزباں پر رات بھر رہ رہ کے تیرا نام آئے گا

۴

لگی ہو کچھ تو قاصد آخر اس کم بخت دل میں بھیوہاں تیری طرح جو جائے گا ناکام آئے گا

۵

اسی امید میں باندھے ہوئے ہیں ٹکٹکی میکشکف نازک پہ ساقی رکھ کے اک دن جام آئے گا

۶

یہاں اپنی پڑی ہے تجھ سے اے غم خوار کیا الجھوںیہ کون آرام ہے مر جاؤں تب آرام آئے گا

۷

زہے عزت جو ہو اس بزم میں مذکور اے واعظبلا سے گر گنہ گاروں میں اپنا نام آئے گا

۸

ہزار انکار یا قطع تعلق اس سے کر ناصحمگر ہر پھر کے ہونٹوں پر اسی کا نام آئے گا

۹

عطا کی جب کہ خود پیر مغاں نے پی بھی لے زاہدیہ کیسا سوچنا ہے تجھ پہ کیوں الزام آئے گا

۱۰

پڑا ہے سلسلہ تقدیر کا صیاد کے بس میںچمن میں اے صبا کیونکر اسیر دام آئے گا

۱۱

کوئی بدمست کو دیتا ہے ساقی بھر کے پیمانہترا کیا جائے گا مجھ پر عبث الزام آئے گا

۱۲

انہیں دیکھے گی تو اے چشم حسرت وصل میں یا میںترے کام آئے گا رونا کہ میرے کام آئے گا

۱۳

ہمیشہ کیا پیوں گا میں اسی کہنہ سفالی میںمرے آگے کبھی تو ساغر زرفام آئے گا

۱۴

کہاں سے لاؤں صبر حضرت ایوب اے ساقیخم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا

۱۵

چھری تھی کند تیری یا ترے قاتل کی او بسملتڑپ بھی تو تری گردن پہ کیوں الزام آئے گا

۱۶

یہی کہہ کر اجل کو قرض خواہوں کی طرح ٹالاکہ لے کر آج قاصد یار کا پیغام آئے گا

۱۷

ہمیشہ کیا یوں ہی قسمت میں ہے گنتی گنا دیناکوئی نالہ نہ لب پر لائق انجام آئے گا

۱۸

گلی میں یار کی اے شادؔ سب مشتاق بیٹھے ہیںخدا جانے وہاں سے حکم کس کے نام آئے گا

۲ / ۷۹