بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا
اے شادؔ عبث ہے اس کا گلا وہ ہجو کرے یا تجھ سے پھرےتا حشر رہا شاگرد ترا استاد تجھے جب مان لیا
About this couplet
This is couplet 11 of 11 in “بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۱۱ / ۱۱