کلامِ شادردیف الف
بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا
بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیاان لاکھوں ہی مرنے والوں میں کیا جلد مجھے پہچان لیا
جب قتل ہوا میں تڑپا بھی چھینٹیں بھی اڑائیں مان لیاالزام خود اس پر کیا یہ نہیں دامن کو نہ کیوں گردان لیا
تو عام فریبی مجھ سے نہ کر ہم مرد ہیں سن لے اے دنیاجو منہ سے کہا وہ کر گزرے جو ٹھان لیا وہ ٹھان لیا
اقسام تھے یاس و حسرت کے اصناف امید بے حد کےجب چلنے لگے ہم دنیا سے ساتھ اپنے بہت سامان لیا
جس ہاتھ سے مجھ کو قتل کیا اس ہاتھ کا کلمہ پڑھوایالی جان تو خیر احسان کیا قاتل نے مگر ایمان لیا
مے خانہ ہے جائے عیش و طرب یاں بیٹھ کے رونا کیا معنیکیا مفت کا اپنے سر تو نے اے دیدۂ تر طوفان لیا
اس گھر میں کرم جب تو نے کیا کچھ دیر ٹھہر اے تیر نظربوسہ ترے قدموں کا دل نے کس شوق سے اے مہمان لیا
آرام طلب ہونے کا گماں جویا پہ ترے لاحول ولاتب پاؤں کو توڑے بیٹھا ہوں جب دشت و جبل کو چھان لیا
جس بھیس میں تو ہو کیا پروا آئندہ نہ کھائے گی دھوکااے طالب دنیا دنیا نے ہر طرح تجھے پہچان لیا
تھی دھار رگ گردن پہ مری سینہ بھی دبا تھا قدموں سےخنجر کا ترے بوسہ ہم نے منہ پھیر کے تا امکان لیا
اے شادؔ عبث ہے اس کا گلا وہ ہجو کرے یا تجھ سے پھرےتا حشر رہا شاگرد ترا استاد تجھے جب مان لیا
۷ / ۷۹