لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا
کیا کروں اور کس طرح اس بے قراری کا علاجیار کے کوچے میں بھی تو دل کا بہلاتا رہا
About this couplet
This is couplet 4 of 6 in “لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۴ / ۶