کلامِ شادردیف الف
لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا
۱
لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہایوں نہ مانوں میں مگر ساغر تو سمجھاتا رہا
۲
طاق سے مینا اتارا پاؤں میں لغزش ہوئیکی نہ ساقی سے برابر آنکھ شرماتا رہا
۳
مجھ سا ہو مضبوط دل تب مے کشی کا نام لےمحتسب دیکھا کیا مجبور جھلاتا رہا
۴
کیا کروں اور کس طرح اس بے قراری کا علاجیار کے کوچے میں بھی تو دل کا بہلاتا رہا
۵
نوجواں قاتل کو اچھی دل لگی ہاتھ آ گئیجب تلک کچھ دم رہا بسمل کو ٹھکراتا رہا
۶
شادؔ وقت نزع تھا خاموش لیکن دیر تکنام رہ رہ کر کسی کا زیر لب آتا رہا
۱۳ / ۷۹