کلامِ شادردیف الف
تھا اجل کا میں اجل کا ہو گیا
۱
تھا اجل کا میں اجل کا ہو گیابیچ میں چونکا تو تھا پھر سو گیا
۲
لطف تو یہ ہے کہ آپ اپنا نہیںجو ہوا تیرا وہ تیرا ہو گیا
۳
کاٹے کھاتی ہے مجھے ویرانگیکون اس مدفن پہ آ کر رو گیا
۴
بحر ہستی کے عمق کو کیا بتاؤںڈوب کر میں شادؔ اس میں کھو گیا
۱۴ / ۷۹