کلامِ شادردیف الف

میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتا

۱

میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتابندگی کہتے ہیں کس شے کو خدائی کرتا

۲

ذرے ذرے کو ترے کوچے میں تھا مجھ سے غبارمیں جو کرتا بھی تو کس کس سے صفائی کرتا

۳

معتکف جو ترے کوچے کے تھے اٹھتے نہ کبھیکعبہ خود آ کے اگر ناصیہ سائی کرتا

۴

سوچ ناحق ہے اسیران قفس کے دل کوکیا پڑی تھی جو کوئی فکر رہائی کرتا

۵

کانپتے ہاتھوں سے کھلتا نہ قفس اے صیادکاش منظور بھی تو میری رہائی کرتا

۶

شادؔ دشمن کی شکایت کا وظیفہ بیکارکیا غرض تھی کہ مرے ساتھ بھلائی کرتا

۱۷ / ۷۹