کلامِ شادردیف الف

جیے جائیں گے ہم بھی لب پہ دم جب تک نہیں آتا

۱

جیے جائیں گے ہم بھی لب پہ دم جب تک نہیں آتاہمیں بھی دیکھنا ہے نامہ بر کب تک نہیں آتا

۲

پہنچنا تھا جو عرض حال کو عرش معظم تککئی شب سے وہی نالہ مرے لب تک نہیں آتا

۳

دل اپنا وادئ غربت میں شاید مر رہا جا کرنہ آنے کی بھی اک میعاد ہے کب تک نہیں آتا

۴

وہاں اوروں کے قصوں کو بھی سن کر وہ کھٹکتے ہیںیہاں اپنی زباں پر حرف مطلب تک نہیں آتا

۵

یہاں تک سینہ تنگی سے ضعیف و زار ہے نالہچلا جو صبح کو وہ تا بہ لب شب تک نہیں آتا

۶

جہاں تمہید کی وہ اور قصے چھیڑ دیتا ہےکسی صورت سے ظالم حرف مطلب تک نہیں آتا

۷

بلا بھیجیں نہ جب تک شادؔ کو وہ اپنے کوچے میںاجارہ ہے ترا اے شوق ہاں تب تک نہیں آتا

۱۸ / ۷۹