کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا
بوریا تھا کچھ شبینہ مے تھی یا ٹوٹے سبواور کیا اس کے سوا مستوں کے ویرانے میں تھا
About this couplet
This is couplet 4 of 12 in “کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۴ / ۱۲