کلامِ شادردیف الف
کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا
کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھامرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھا
ہائے وہ خود رفتگی الجھے ہوئے سب سر کے بالوہ کسی میں اب کہاں جو تیرے دیوانے میں تھا
جس طرف جائے نظر اپنا ہی جلوہ تھا عیاںجسم میں ہم تھے کہ وحشی آئینہ خانے میں تھا
بوریا تھا کچھ شبینہ مے تھی یا ٹوٹے سبواور کیا اس کے سوا مستوں کے ویرانے میں تھا
ہنستے ہنستے رو دیا کرتے تھے سب بے اختیاراک نئی ترکیب کا درد اپنے افسانے میں تھا
سن چکے جب حال میرا لے کے انگڑائی کہاکس غضب کا درد ظالم تیرے افسانے میں تھا
دون کی لیتا تو ہے زاہد مگر میں کیا کہوںمتقی ساقی سے بڑھ کر کون مے خانے میں تھا
پاس تھا زنجیر تک کا طوق پر کیا منحصروہ کسی میں اب کہاں جو تیرے دیوانے میں تھا
دیر تک میں ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھا کیاچہرۂ ساقی نمایاں صاف پیمانے میں تھا
ہائے پروانے کا وہ جلنا وہ رونا شمع کامیں نے روکا ورنہ کیا آنسو نکل آنے میں تھا
خود غرض دنیا کی حالت قابل عبرت تھی شادؔلطف ملنے کا نہ اپنے میں نہ بیگانے میں تھا
شادؔ کچھ پوچھو نہ مجھ سے میرے دل کے داغ کوٹمٹماتا سا چراغ اک اپنے ویرانے میں تھا
۲۳ / ۷۹